شانگلہ(رپورٹ:آفتاب حسین)شانگلہ میں طوفانی برفباری کے چوتھے روز بھی معمولات زندگی بحال نہ ہوسکی،ضلعے کے بیشتر سڑکیں بحال نہ ہو سکی،بجلی کا نظام بھی درہم برہم کوٹکے گریڈسٹیشن تک بجلی کی بحالی کا کام جاری ہیں۔ا لپوری اور دیگر علاقوں تک مین لائن کئی مقامات پر کمبے اور تارے ٹوٹنے سے شدید متاثرہیں۔الپوری منگورہ اور الپوری تابشام مین شاہراؤں کی بڑی گاڑیوں کیلئے نہ کھل سکا۔ان شاہراؤں پر چینج کے بغیر گاڑیوں کی داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے لاکھوں آبادی شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔الپوری مینگورہ، الپوری بشام شاہراہیں جو نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی زیر نگرانی ہیں پر چار روز ہونے کے باوجود مکمل طور پر بحالی نہ ہونا اس ادارے اور انتظامیہ کے لیے باعث فکر اور شانگلہ کی عوام کے لیے عوام دشمنی ظاہر کرتی ہیں۔الپوری بورڈ تا پورن اور کروڑا تا چکیسر سمیت کانا کی سڑکیں حکاس کمپنی کے ساتھ ہیں تاہم ان کی بھی اپنی سڑکوں کی بروقت اور باری مشینری سے صفائی نہ کر نے پر شدید تحفظات جاری ہیں۔عوامی حلقوں کی جانب سے شانگلہ میں چار روز گزرنے کے باوجود میں شاہراؤں کہ بندش پر شدید غلام غصہ پایا جا رہا ہیں اور یہ مطالبہ کیا جا رہا ہیں کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی جس کے پاس شانگلہ کی مین شاہراہ کی زمہ داری ہیں صفائی میں ٹال مٹول اور باری مشینری نہ ہونے کی وجہ سے صورتحال انتہائی سنگین رہی۔ اس مین شاہراہ پر سینکڑوں افراد نے پیدل سفرکیا،مریضوں اورمیتوں کوچارپائی پرمنتقل کردیاگیاجواس صدی میں شانگلہ کے عوام کیساتھ مذا ق ہیں۔زمہ داروں کا تعین کیاجائیں۔متعلقہ محکمہ شانگلہ میں ہرایمرجنسی کے وقت صرف میٹنگز کرتی ہے اور مینٹس جاری کرتی ہے کہ تیاریاں مکمل کر دی گئی ہیں جبکہ بعد میں جب طوفانی اور شدیدبرفباری جیسے واقعات ہوتے ہیں تو ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالی جاتی ہیں۔شانگلہ کا سب سے مرکزی راستہ الپوری تا خوازہ خیلہ اور الپوری تابشام جو نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے پاس ہیں پربرفباری شرعو ہوتے ہی معمولی ٹریکٹر پہلے صفائی میں مصروف تھی جو مذاق تھا۔ تیسرے روز کام شروع کیا گیا تاہم وہ بھی نہ ہونے کے برابر دکھائی دے رہا ہیں۔ ڈپٹی کمشنر شانگلہ کی پیج سے مختلف سڑکوں کی صفائی مکمل ہونے پر اور ان مذکورہ سڑکوں پر ٹریفک کی روانی کے حوالے سے پوسٹ جاری ہوا جس پر سینکڑوں کی تعداد میں علاقہ مکینوں نے شدید تنقید کی اور ضلع یانتظامیہ کی کارکردگی پر عوام نے کل کر بھرپور اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ شانگلہ انتظامیہ افسران مافیا کی نذر ہو چکے ہیں اور وہ لوگ ان کو کہتے ہیں کہ سب ٹھیک ہیں اور یہ اگے وہی چیز بیچتے ہیں جبکہ زمین حقائق اس کے برعکس ہوتے ہیں نہ صرف یہ کہ یہ معاملہ برف باری میں ہوا یہ عمومی طور پر شانگلہ میں اب وہ ایک روش بن چکا ہیں۔بجلی کے حوالے سے ایس ڈی او واپڈا نے بتایا کہ کوٹکی گریڈسٹیشنجو شانگلہ کو بجلی فراہم کرتی ہیں کہیں مقامات پر مین ٹاور کے تارے ٹوٹ گئی ہیں جس پر مردان ٹیم اس پر کام کر رہی ہیں جبکہ الپوری سے کوٹکی تک لائن کی بحالی جاری ہیں مگر شدید برفباری کی وجہ سے مشکلات درپیش ہیں۔ مین شاہراؤں کی بندش کی وجہ سے مریضوں کو چارپائی کے ذریعے منتقل کیا جا رہا ہیں جبکہ گزشتہ روز میت کو بھی چارپائی کے ذریعے منتقل کیاگیا،ایک گھنٹے کا سفر کہی چھ اور سات گھنٹے میں طے کر کے مسافر اپنی منزلوں کی طرف جا رہے ہیں اس وقت سب سے زیادہ مشکل ان لوگوں کے ہیں جس کی گاڑیاں چوتھے روزسے خوازہ خیلہ سے شانگلہ ٹاپ اور شانگلہ ٹاپ سے الپوری کی درمیان پھنسی ہوئی ہیں۔شانگلہ میں جمعرات کے روز سے شروع ہونے والی طوفانی برف باری نے نظام زندگی کو جہاں پوری طرح متاثر کیا وہاں ضلع انتظامیہ شانگلہ کی ناقص کارکردگی اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے شانگلہ میں ان کی زیرنگرانی سڑکوں کی مکمل تفصیل تک موجود نہ ہونے کی پول کھول دی ہیں۔شانگلہ جو 10 لاکھ آبادی پر مشتمل ضلع ہے پانچ ٹی ایم ایز، محکمہ بلدیات اور محکمہ تعمیرات سی این ڈبلیو کے پاس ایک ہیوی بلڈوزر تک میسر نہیں جو ایک بڑا المیہ ہے یہ محکمے صرف ترقیاتی منصوبوں میں کرپشن اور غفلت میں ملوث ہوتے ہیں جبکہ ان کی کارکردگی نہ ہونے کے برابر ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے