وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ ملک بھر میں اسٹریٹ موومنٹ کا سلسلہ جاری ہے اور آج سوات کے عوام نے بھی اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔ مینگورہ میں اسٹریٹ موومنٹ ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عوام نے عمران احمد خان نیازی کو مینڈیٹ دیا تو وزیر اعلیٰ بھی عمران احمد خان نیازی کا ہی ہوگا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ میرے وزیر اعلیٰ بننے کے خلاف ہر حربہ استعمال کیا گیا، طرح طرح کے بیانیے گھڑے گئے اور یہاں تک کہ مجھے سمگلروں اور دہشت گردوں کا ساتھی کہا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جب گورنر راج اور رجیم چینج کے آپشن ناکام ہوئے تو اب تحریک انصاف پر عوام کا اعتماد ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے خلاف ایک نیا بیانیہ بنایا گیا کہ ہم فوج اور اداروں کے دشمن ہیں، حالانکہ ہم فوج اور اداروں کے دشمن نہیں ہیں، تاہم بند کمروں کے فیصلوں اور منصوبوں کو نہیں مانتے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تحریک انصاف کا امیج خراب کرنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہونے دی جائیں گی۔ وزیر اعلیٰ نے وفاقی حکومت کی جانب سے تیراہ متاثرین کے بارے میں جاری نوٹیفکیشن پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت کے نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ تیراہ متاثرین اپنی مرضی سے نقل مکانی کر رہے ہیں، جو سراسر غلط اور گمراہ کن بیانیہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ نوٹیفکیشن واپس نہ لیا گیا اور اس پر معافی نہ مانگی گئی تو میں آفریدی قوم کا جرگہ بلاؤں گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کے بعد پختون قوم کا جرگہ بلایا جائے گا اور اگر بات غلط ثابت ہوئی تو نقل مکانی کرنے والے متاثرین کو خود تیراہ واپس لے کر جاؤں گا۔ انہوں نے کہا کہ ایک نیا نوٹیفکیشن سامنے آیا ہے جس کا مقصد صوبائی حکومت اور اداروں کے درمیان تصادم پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کے بعد وفاق کے ساتھ جو بھی کنورسیشن ہوگی وہ تحریری اور ثبوت کے ساتھ ہوگی اور ایسے حربے کامیاب نہیں ہونے دیے جائیں گے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ لوگ بند کمروں میں فیصلے مسلط کرتے ہیں اور جب ناکامی ہوتی ہے تو پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مذاکرات یا احتجاج کے فیصلے کا اختیار تحریک تحفظ آئین پاکستان کو دیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ایک بات طے ہے کہ اگر معاملہ صرف احتجاج پر آ گیا تو جان خلاصی مشکل ہو جائے گی۔

بریکوٹ پہنچنے پر بھی کارکنان کا جانب سے پرتپاک استقبال کیا گیا۔ کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے تحریک انصاف کے نوجوان رہنما مراد سعید کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ مراد سعید نے اس وقت آواز بلند کی جب یہاں دہشت گردی شروع ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ہم مراد سعید کے ساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے اور امید ہے کہ ملکی ادارے ان کی حفاظت یقینی بنائیں گے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باقی تمام پارٹیاں جو بریانی یا پیسوں کی لالچ دے کر لوگوں کو جمع کرتی ہیں ختم ہو جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں صرف ایک آواز چلے گی اور وہ عمران خان کی آواز ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب، سندھ، ہزارہ، پشاور ریجن اور آج ملاکنڈ میں عوامی جذبہ اور جنون بے مثال دیکھا ہے اور عمران خان کے کارکنان اور ان کے وژن سے وابستہ عوام کا کوئی مقابلہ اور موازنہ نہیں ہے۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر قیادت اسٹریٹ موومنٹ ریلی ملاکنڈ میں بھی پہنچی جہاں تھانہ کے مقام پر کارکنان نے پرجوش استقبال کیا۔ خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ملاکنڈ کے عوام نے ہمیشہ پاکستان تحریک انصاف کے لیے کلیدی کردار ادا کیا ہے اور جب بھی پارٹی پر سخت وقت آیا، ملاکنڈ کے عوام نے بھرپور ساتھ دیا۔ انہوں نے کہا کہ کارکنان سمجھ لیں کہ ہمارے پاس غلطی یا آرام سے بیٹھنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم حقیقی آزادی یا موت کے جذبے کے ساتھ نکلے ہیں اور ان شاءاللہ اس بار حقیقی آزادی حاصل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے مذاکرات یا احتجاج کے فیصلے کا اختیار تحریک تحفظ آئین پاکستان کے قائدین کو دے رکھا ہے اور اگر معاملہ احتجاج تک گیا تو ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے اور اپنا آئینی حق بھرپور استعمال کریں گے۔

چکدرہ میں اسٹریٹ موومنٹ ریلی کے اختتامی خطاب میں وزیر اعلیٰ نے شرکاء اور کارکنان کے شاندار استقبال پر دلی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ملاکنڈ ریجن کے عوام نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ یہ خطہ ظلم، جبر اور ناانصافی کے خلاف ڈٹ کر کھڑا ہونے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج پختونوں کے جوش و خروش اور عوامی طاقت نے کسی کی نیندیں حرام کر دی ہوں گی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے حالیہ نوٹیفکیشن میں یہ کہنا کہ تیراہ کے متاثرین نے اپنی مرضی سے نقل مکانی کی، کھلی ناانصافی اور حقائق سے انحراف ہے۔ انہوں نے کہا کہ تیراہ کے عوام سخت ترین حالات سے گزر رہے ہیں اور ان مسائل کی بنیادی وجہ فارم 47 کے تحت قائم کی گئی جعلی حکومت ہے جس نے زمینی حقائق کو نظر انداز کر کے عوام کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بند کمروں میں کیے گئے فیصلوں کا یہی انجام ہوتا ہے کہ ان فیصلوں کے ذمہ دار خود ہی بعد میں اپنے موقف سے مکر جاتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پختون کوئی تجربہ گاہ نہیں اور نہ ہی کیڑے مکوڑے ہیں کہ ہر کوئی آ کر ان پر اپنے ناکام تجربات آزماتا پھرے۔ انہوں نے کہا کہ آپ سب گواہ رہیں کہ اس صوبے اور اس کے عوام کے حقوق کے لیے آپ کا وزیر اعلیٰ سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑا ہے اور کسی دباؤ یا سازش کے سامنے جھکنے والا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ زندگی اور موت، عزت اور ذلت اور رزق سب اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور مخالفین اگر پوری دنیا کی دولت بھی اکٹھی کر لیں تو وہ میری قیمت نہیں لگا سکتے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ میں عمران خان کا سپاہی ہوں اور کسی خوف یا دباؤ کا شکار نہیں ہوں۔ انہوں نے عمران خان کی قید کو ناحق قرار دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان قوم کے لیے قربانی دے رہے ہیں اور ان کا پورا خاندان اس جدوجہد میں ہمارے ساتھ کھڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کو بخوبی معلوم ہے کہ اس موجودہ نظام اور اس کے اداروں سے انصاف کی توقع نہیں، اسی لیے وہ ہمارے لیے جیل میں ہیں اور ہم پوری قوت کے ساتھ ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اتوار کے روز خیبر میں آفریدی قوم کا جرگہ بلایا گیا ہے اور یہ نوٹیفکیشن دانستہ طور پر اشتعال دلانے کی کوشش ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہم آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ہر حربے کا مقابلہ کریں گے مگر بند کمروں میں کیے گئے مسلط شدہ فیصلوں کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے اور عوام کی مرضی کے بغیر مسلط کیے گئے فیصلوں کے خلاف بغاوت کرتے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ہم عمران خان کے سپاہی ہیں اور آئین و قانون کے مطابق جدوجہد جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آج ملاکنڈ ریجن نے ثابت کر دیا ہے کہ پورے پاکستان کا نوجوان عشق عمران میں ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہے۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ مذاکرات کی آپشن میں زیادہ وقت نہیں اور اگر عوام کو مزید دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو ہر چوک ڈی چوک بن جائے گا۔ وزیر اعلیٰ کی زیر قیادت اسٹریٹ موومنٹ ریلی ضلع سوات مینگورہ سے شروع ہوئی اور چکدرہ کے مقام پر اختتام پذیر ہوئی۔ ریلی کے دوران جگہ جگہ کارکنان کی طرف سے پرتپاک استقبال کیا گیا اور کارکنان نے کمال جوش و خروش کا مظاہرہ کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے