نامکمل ترقیاتی منصوبوں کی مکمل تحقیقات کی جائے
ہریپور، مانسہرہ سمیت دیگر شہروں سے مسلسل شکایات آ رہی ہیں کہ شفافیت کے دعوؤں کے باوجود بھی مختلف ترقیاتی سکیموں کے ٹھیکے من پسند ٹھیکیداروں کو بھاری کمیشن کے عوض دیئے جاتے ہیں جس کی وجہ سے ترقیاتی کاموں گھپلے ہوتے ہیں اور اکثریتی کام دھورے چھوڑ کر فنڈز ہضم کر لیئے جاتے ہیں۔ترقیاتی کاموں میں ہمیشہ سے کرپشن اور لوٹ مار کا سلسلہ رہا ہے یہی وجہ ہے کہ کروڑوں روپے کے ٹینڈرز سے صرف چند لاکھ بھی موقع پر نہیں لگائے جاتے ہیں باقاعدہ بیورو کریسی،ٹھیکیداروں اور متعلقہ حکام اور افسران کی ملی بھگت سے ترقیاتی کاموں کی مد میں مختلف سکیموں کے نام پر کروڑوں روپے ہضم کر لیئے جاتے ہیں۔ جو ٹھیکیدار بھاری رشوت یا کمیشن کے عوض ٹھیکے لے گا تو پھر وہ موقع پر کتنا فنڈز لگائے گا لازمی ہے کہ وہ بھی انتہائی ناقص میٹریل کااستعمال کر کے مذکورہ فنڈ میں کرپشن کرے گا یا پھر مذکورہ سکیم کو ادھورہ چھوڑ کر اور ملی بھگت سے بل وصول کرنے کے بعد رفو چکر ہو جائے گا اس وقت اگر ہزارہ بھر میں پچھلے چند سالوں کی ترقیاتی سکیموں کا معائنہ یا تحقیقات کی جائیں تو اکثریتی سکیموں کا موقع پر کوئی بھی وجود نہیں ہوگا۔ متعلقہ اداروں کی ملی بھگت سے نصف سے زائد سکیمیں تو صرف کاغذوں میں مکمل کر کے ان کا سارا فنڈز ہضم کر لیا جاتا ہے اور بعض بڑی سکیموں پر تھوڑا بہت کام کر کے انہیں ادھورہ چھوڑ کر ٹھیکیدار غائب ہو جاتے ہیں اور باقاعدہ متعلقہ محکموں کے افسران، انجنیئرز اور ٹھیکیدار کی ملی بھگت سے بغیر تکمیل کے سکیموں کی تمام رقوم کا اجراء بھی کر لیا جاتا ہے۔ کرپٹ افسران اپنے چند فیصد کمیشن کی خاطر خزانہ کے کروڑوں روپے ضائع کرنے کا سبب بن جاتے ہیں ذمہ داران کو چاہیے کہ وہ ترقیاتی فنڈز میں لوٹ مار اور گھپلے کرنے والے افسران اور دیگر اہلکاروں کیخلاف تحقیقات کر کے سخت کارروائی کریں تاکہ لوٹ مار کا یہ سلسلہ یہیں پر ختم ہو سکے اور جو فنڈز جن مقاصد کیلئے جاری ہوتے ہیں مذکورہ تمام سکیموں کی تکمیل کے بعد باقاعدہ چیک کرنے کے بعد ہی رقوم کااجراء یقینی بنایا جائے تاکہ بوگس سکیموں کے نام پر قومی خزانہ لو لٹانے سے محفوظ بنایا جاسکے