معاون خصوصی برائے اطلاعات خیبرپختونخوا شفیع اللہ جان نے کہا کہ سوات ہوٹل (سابقہ سرینا ہوٹل) سے متعلق منفی پروپیگنڈا حقائق کے برعکس ہے اور ہوٹل کو شفاف اور مسابقتی کھلی نیلامی کے ذریعے لیز پر دیا جائے گا۔
شفیع اللہ جان کے مطابق 44 کنال پر مشتمل سوات ہوٹل کو 1985 میں سالانہ 5 لاکھ روپے کرایہ پر لیز دیا گیا تھا، جس کی 30 سالہ مدت 2015 میں ختم ہوگئی۔ لیز کی توسیع کے لیے سرینا ہوٹل انتظامیہ نے درخواست دی، مگر کرایہ کے تعین پر اختلافات کے باعث معاملہ کئی برس تک عدالتی کارروائی میں رہا۔
انہوں نے بتایا کہ ٹورازم اتھارٹی کی کثیر شعبہ جاتی کمیٹی نے ہوٹل کا سالانہ مارکیٹ ریٹ 10.4 کروڑ روپے مقرر کیا، اور عدالتی معاملات کے بعد خیبرپختونخوا کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی نے ہوٹل واپس لے لیا۔
معاون خصوصی اطلاعات نے واضح کیا کہ سوات ہوٹل کی کھلی نیلامی میں ہر کوئی حصہ لے سکے گا، جس سے صوبے کو نمایاں مالی فائدہ حاصل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی اثاثوں کے شفاف اور مؤثر انتظام کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں اور سیاحت کے شعبے کو فروغ دینے کے لیے انفراسٹرکچر کی بہتری پر بھی کام جاری ہے۔
